اشعار و غزل

غزل : غموں کو پھول ستم کو شباب لکھتا گیا! عامر قمر سالار پوری

             غزل
   عامر قمر سالار پوری
غموں کو پھول ستم کو شباب لکھتا گیا
نئے خیال کو میں پُر شتاب لکھتا گیا
تمام عمر ستایا ہے زندگی نے مجھے
تری جفاؤں کا سارا حساب لکھتا گیا
سکوں ملا ہے تُجھے اس لئے کہ چھوڑ دیا
نرا جو مجھکو ملا ہے عذاب لکھتا گیا
وہ فلسفہ کے جسے روشنی نصیب نہ تھی
میں کُچھ دیوں کی ضیا میں کتاب لکھتا گیا
مرا جو درد کا رشتہ ہے تُجھ سے اے ساقی
تری شراب کو میں پر شباب لکھتا گیا
تمام شہر کی اوباش ہستیاں اے ۔قمر۔
میں اپنے عزم سے سب کو عذاب لکھتا گیا
  از قلم۔عامر قمر سالار پوری
مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close