اشعار و غزل

پریم ناتھ بسملؔ کی یہ غزل !تیرے دل کو ملال کیسا ہے، کچھ تو بولو کہ حال کیسا ہے

غزل 

پریم ناتھ بسملؔ مرادپور، مہوا، ویشالی۔ بہاررابطہ۔ 8340505230

تیرے دل کو ملال کیسا ہے

کچھ تو بولو کہ حال کیسا ہے

 بات کیا ہے، اداس بیٹھے ہو

دل میں آیا خیال کیسا ہے

کیوں سمجھتا نہیں اسے انساں

 موت کا یہ سوال کیسا ہے

قدر باقی رہی نہ رشتوں کی

آدمی کا زوال کیسا ہے

قحط سالی کہیں، کہیں پانی

کیا کہوں اعتدال کیسا ہے

یوں نہ آتے تھے زلزلے ہردم

آج آیا یہ سال کیسا ہے

واہ کیا خوب ہے مسیحائی !

پوچھ مت، دیکھ حال کیسا ہے

بانٹتا موت ہے مریضوں کو

شہر کا ہسپتال کیسا ہے

رنگ چہرے کا اڑ گیا کیسے

تجھ کو آیا جلال کیسا ہے

میں کہاں اور تو کہاں ہمدم 

بات کرنا محال کیسا ہے

ایک پل بھی نہیں سکوں بسملؔ

دردِ دل لازوال کیسا ہے

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close