اشعار و غزل

لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے! فیض احمد فیض کی نظم کو آگے بڑھانے کی ایک کوشش

لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے ! مولانا طاہر مدنی

[ فیض احمد فیض کی نظم کو آگے بڑھانے کی ایک کوشش ]

ہم دیکھیں گے، ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
جب مزدوروں کی آوازیں، ایوانوں سے ٹکرائیں گی
جب دیوانوں کی للکاریں، زندانوں سے ٹکرائیں گی
جب لاٹھی ڈنڈے برسیں گے اور زنجیریں لہرائیں گی
جب ظلم و ستم کے شیدائی، مظلوم سے تھر تھر کانپیں گے
ہم دیکھیں گے……
سڑکوں پہ جوانوں کے لشکر، جب قوس و قزح بن جائیں گے
ماؤں، بہنوں، بچوں کے علم، جب صوت قضا بن جائیں گے
ہندو، مسلم، عیسائی، سکھ، جب شیر و شکر ہوجائیں گے
جب فرعونوں کے پاؤں تلے، یہ دھرتی تھر تھر کانپے گی
اور سارے صنم گر جائیں گے
ہم دیکھیں گے….
انصاف کا پرچم لہرانے، جب امن کے خوگر آئیں گے
وہ وقت یقیناً آئے گا، جب سارے ستمگر جائیں گے
مفلس کے بھی گھر میں جب لوگو، دولت کا اجالا آئے گا
نادار کے بچے بھی گھر میں، جب چین سے روٹی کھائیں گے
ہم دیکھیں گے….
پندار کے سب بت ٹوٹیں گے، کردار کی عظمت جاگے گی
جب اہل ہوس مٹ جائیں گے، گفتار کی رفعت جاگے گی
ہم سب مل کر اس دھرتی کو پھر سے گلزار بنائیں گے
یہ دنیا والے دیکھیں گے اور ہم ان کو دکھلائیں گے
ہم دیکھیں گے….
آسام سے یہ گجرات تلک، جو ایک سمندر دکھتا ہے
تعبیر ہے ان خوابوں کی، جو سب نے مل کر دیکھا تھا
اس دیش کی عظمت کا پرچم، تا حدنظر لہرایا ہے
لازم ہے کہ دن اب بدلیں گے اور رات سہانی آئے گی
خوش حالی کا پیغام لیے، اب صبح کا سورج آئے گا
ہم دیکھیں گے…..
طاہر کی نگاہوں میں سارے جانباز، دکھائی دیتے ہیں
تا حد نظر، تا حد بصر، شہباز دکھائی دیتے ہیں…..
ممکن ہی نہیں کہ رک جائے، یہ سیل رواں دیوانوں کا
منزل ہی پے جاکر دم لے گا، یہ عزم جواں فرزوانوں کا
لازم ہے کہ دنیا دیکھے گے، یہ طے ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
ہم دیکھیں گے، ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close