اشعار و غزل

رنج میں ڈوبے ہوئے چہروں کو کبھی پڑھ ! محمد عباس دھالیوال

محمد عباس دھالیوال،
مالیر کوٹلہ ،پنجاب.
رابطہ 9855259650

"رنج میں ڈوبے ہوئے چہروں کو کبھی پڑھ”

جھوٹی کہانی چھوڑ سچا فسانہ لِکھ
درپیش ہیں جو آج اُن حالات پہ تو لِکھ
رنج میں ڈوبے ہوئے چہروں کو کبھی پڑھ
انسانیت کے درد پر بیباک ہو کے لِکھ
وہ حادثے جو اخبار کی زینت نہ بن سکیں
ان کو یہاں تو اپنے روزنامچے میں لِکھ
اِس پر آشوب دور میں زندہ ہیں کس طرح
اِن واقعات و حالات کو حق کے ساتھ لِکھ
تاریخ کے صفحات پر چمکیں یہ اک روز
جو وقت نے دیئے زخم ان سے وابستہ لِکھ
ہر سمت ظلمات کا جب بازار ہے گرم
ایسے میں تو حق کی آواز بن کے لِکھ
نظم کی اقسام ہوں ہو کہ نثر کے شعبے
تقاضائے وقت ہے کہ سچا ادب لِکھ
بے شک پابندیاں ہیں سچ بولنے پہ ‘عباس’
لیکن جراءت کے ساتھ آزاد ہو کے لِکھ

محمد عباس دھالیوال،
مالیر کوٹلہ ،پنجاب.
رابطہ 9855259650

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close