اشعار و غزل

غزل  : اپنی آنگن میں حسین چاند ٹہلتا دیکھوں! محمد شبیر

غزل

محمد شبیر

اپنی آنگن میں حسین چاند ٹہلتا دیکھوں

بند آنکھوں سے بھی اسے مچلتا دیکھوں۔

اپنی آہوں میں اثر کاش میں دیکھوں.

ایسا موم کی طرح سے فولاد پگھلتا دیکھوں۔

میں ادب کا ہوں مسافر ہے تمنا میری ۔

تھک بھی جاؤں میں اگر سائے کو چلتا دیکھوں۔

ان سے ملنے کا کوئی لمحہ میسر آئے۔

ان سے دوری کے ہر ایک لمحہ کو ٹلتا دیکھوں ۔

عشق کی راہ کامیں سمجھوں مسافر اس کو۔

کھا کے ٹھوکر بھی جسے خود ہی سنبھلتا دیکھوں ۔

اے خدا تو ہی میرے عزم کو مستحکم کر ۔.

غم کا سورج بھی ہو جو اوج پےڈھلتا دیکھوں۔

درد جیسا بھی ہو کوشش تو رہے گی نازاں۔ درد ?

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close