اشعار و غزل

غزل برنگ تصـــوف : مقام دل میں وہ جلوہ نماہے! ازقلم : مولانا نعمان اختر فائق

مقام دل میں وہ جلوہ نماہے

ہمارے یار کا بس یہ پتا  ہے

رقیبو ں سے تراجب معاملہ ہے

بتانے کوبتا اب کیا رہا ہے

تو کہتاہے بڑالکھا پڑھا ہے

بتااخلاق کی تعریف کیا ہے

گھمنڈی اس قدر مت بن تو زاہد

جو ہے تیرا خداوہی میراخداہے

فقیروں کی سخاوت سب سے اچھی

زباں پہ ہرگھڑی حرف دعا ہے

نگاہ یارکی عشوہ طرازی

قیامت قیامت اک بپا ہے

تو میری خوب روئی کاہے منکر

بتا کیا تیرے گھر میں آئینہ  ہے

دل  ناداں لے کر آگیا میں

بتا اے حُسن جو بھی فیصلہ ہے

قیادت گوش بر آواز ہے تو

سنے یہ دیش برما ہورہا ہے

پڑی ہے خانقاہوں میں خموشی

صدائے قُم کاوارث مرچکا ہے

تحمل بُردباری فـــکرو حکمت

یہ سب کچھ بس کتابوں میں دھرا ہے

خدا سے مانگ شاہیں کا تجســس

جگر چیتے کا تیرا کھو گیــا ہے

ترا یہ درد  اقبـــالی ہے فــــائقؔ

یہ رومی سوز ہے فکر رضـــا ہے

ازقلم : مولانا نعمان اختر فائق جمالی مہتمم دارالعلوم فیض الباری نوادہرابطہ نمبر:  9572469157

Show More

Related Articles

جواب دیجئے

Close