بزم انقلاب طرحی مُشاعرہ‬ سےعمدہ غزل ’’ لگا کےآگ اُلفت کی تڑپتا چھوڑدیتے ہیں ‘‘ ازقلم: مولانا محمد جہانگیرعالم مہجورالقادری

بزم انقلاب طرحی مُشاعرہ‬ سے عمدہ غزل ’’ لگا کے آگ اُلفت کی تڑپتا چھوڑ دیتے ہیں ‘‘ ازقلم: مولانا محمد جہانگیرعالم مہجورالقادری

غزل

لگا کے آگ اُلفت کی تڑپتا چھوڑ دیتے ہیں

زمانے میں ہمیں وہ کر کے رُسوا چھوڑ دیتے ہیں 

خوشی مل ہی نہیں سکتی کبھی اُس کو زمانےمیں

 غموں کے دَور میں جو مُسکرانا چھوڑدیتے ہیں

 وطن کے سرفروشوں نے وطن کی لاج رکھی ہے

 کیوں ایسے رہنماؤں کا وطیرہ چھوڑ دیتے ہیں 

نہیں رکھتے یقیں جو منزلِ مقصود پانے کا

“اُسی کو قافلےوالے اکیلا چھوڑدیتے ہیں” 

سہارا بن کے بچپن سے جنہیں برسوں تلک پالا

 بُڑھاپےمیں وہی تو بے سہارا چھوڑدیتے ہیں

 نظر اپنی جو رکھتے ہیں ہمیشہ مُصحف رُخ پر

حسینانِ جہاں کا وہ جھمیلا چھوڑ دیتے ہیں

 وطن کی بن گئی کیسی فضا مہجور تو دیکھو

 جہاں انسانی لاشوں کو تڑپتا چھوڑ دیتے ہیں

ازقلم: مولانا محمد جہانگیرعالم مہجورالقادری، نوادہ رابطہ 9801511673 

اپنا تبصرہ بھیجیں