دانش رضا دلبر کی پسندیدہ غزل آپ سب کی نذر

غزل

خدا تک جو پہنچنے کا وسیلہ چھوڑ دیتے ہیں

وہی تو خلد میں جانے کا رستہ چھوڑدیتےہیں

شعور بندگی حاصل اسے ہو ہی نہیں سکتا

رسول پاک کی سیرت جو پڑھناچھوڑدیتےہیں

نظر میں بس گیا جن کی جمال گنبد خضری

 وہ دنیاکا کوئی بھی ہو تماشا چھوڑ دیتے ہیں 

جسے بھی سنگریزوں پہ کبھی چلنا نہیں آیا

” اسی کو قافلے والے اکیلا چھوڑ دیتے ہیں” 

جب وقت رخصت آگیا دنیا سے شاہوں کا

زمینوں میں جورکھا ہےدفینہ چھوڑ دیتے ہیں

حریفوں پہ ابھی بھی ایک ایسا رعب غالب ہے

کہ سُنتے ہی مرا وہ نام رستہ چھوڑدیتے ہیں 

جہاں محسوس ہوخطرہ ذرا بھی مارےجانے کا

پرندے ان درختوں پہ بسیرا چھوڑدیتے ہیں 

زمانے میں مری تو اک یہی پہچان ہے دلبر

سبھی چلتے ہوں جس پر ہم وہ رستہ چھوڑدیتے ہیں 

دانش رضا دلبر، نوادہ : رابطہ ؛ 7870449355

اپنا تبصرہ بھیجیں