ڈاکٹر کلیم عاجزؔ کی یہ غزل’’جہاں غم ملا اٹھایا پھر اسے غزل میں ڈھالا ‘‘آپ سب کی نذر

غزل

ڈاکٹر کلیم عاجزؔ

جہاں غم ملا اٹھایا پھر اسے غزل میں ڈھالا

یہی درد سر خریدا یہی روگ ہم نے پالا

ترے ہاتھ سے ملی ہے مجھے آنسوؤں کی مالا

تری زلف ہو دوگونہ ترا حسن ہو دوبالا

یہ سماں اسے دکھاؤں صبا جا اسے بلا لا

نہ بہار ہے نہ ساقی نہ شراب ہے نہ پیالا

مرے درد کی حقیقت کوئی میرے دل سے پوچھے

یہ چراغ وہ ہے جس سے مرے گھر میں ہے اجالا

اسے انجمن مبارک مجھے فکر و فن مبارک

یہی میرا تخت زریں یہیں میری مرگ چھالا

دوسری غزل

 کون عاجزؔ صلۂ تشنہ دہانی مانگے

یہ جہاں آگ اسے دیتا ہے جو پانی مانگے

دل بھی گردن بھی ہتھیلی پہ لئے پھرتا ہوں

جانے کب کس کا لہو تیری جوانی مانگے

توڑیئے مصلحت وقت کی دیواروں کو

راہ جس وقت طبیعت کی روانی مانگے

مانگنا جرم ہے فن کار سے ترتیب خیال

گیسوئے وقت جب آشفتہ بیانی مانگے

ساقی تو چاہے تو وہ دور بھی آ سکتا ہے

کہ ملے جام شراب اس کو جو پانی مانگے

کس کا سینہ ہے جو زخموں سے نہیں ہے معمور

کیا کوئی تجھ سے محبت کی نشانی مانگے

دل تو دے ہی چکا اب ہے یہ ارادہ اپنا

جان بھی دے دوں جو وہ دشمن جانی مانگے

ہیں مرے شیشۂ صہبائے سخن میں دونوں

نئی مانگے کوئی مجھ سے کہ پرانی مانگے  

اپنا تبصرہ بھیجیں