کشمیرکےحالات پردردناک نظم!ثمریاب ثمر

کشمیر

بن روٹی کے

کتنے دن تک رہ سکتے ہو 

بھوکے پیاسے

 کتنے دن تک رہ سکتے ہو

 اک دن، دو دن یا کچھ ہی دن.

 چین کی نیندیں سونے والو 

عیش میں ہر پل رہنے والو 

اچھا کھانے پینے والو

کیا تم نے بھی کچھ سوچا ہے

 ایک قبیلہ پندرہ دن سے بھوکا ہے!!

 ماؤں کی چھاتی دودھ سے جب محروم ہوئی

 ایسے میں وہ دودھ کہاں سے لائیں گی

بھوکے مرتے بچوں سے

وہ پہلے ہی مرجائیں گی 

وقت کا حاکم ایک علاقہ

 ہمیں دکھاکر بول رہا ہے

 سب اچھا ہے سب اچھا ہے

کیا اچھا ہے!!!

 پاؤں میں زنجیر پڑی ہے

  گھر کے آگے فوج کھڑی ہے

 رہنا سہنا جرم ہوا ہے

 کچھ بھی کہنا جرم ہوا ہے

دیکھو محبت نفرت میں تحلیل ہوئی

وادئ جنت  دوزخ میں تبدیل ہوئی

 بندوقوں کی نوک پہ یارو

 خوابوں کی تعبیر دھری ہے

 دوزخ کے منڈیر پہ دیکھو

 پرکھوں کی جاگیر دھری ہے

ماؤں کی گودی معصوموں کا

کب تک قبرستان بنے

کس کو بھلا منظور ہے یاور 

اپنا گھر زندان بنے

 لاشوں کے انبار کے اوپر

یہ مجھ کو منظور نہیں 

میرا ہندوستان بنے

 پیارا ہندوستان بنے 

[ ✍ *ثمریاب ثمر* ]

اپنا تبصرہ بھیجیں