ارریہ

ارریہ : 32 سالہ قدیم مارکیٹ میں بیت الخلاء کا نظم نہیں ایک ماہ میں لاکھوں کی ہوتی ہے آمدنی

ضلع کے بلاک مراکز وشہروں کا بھی یہی حال خواتین کو سب سے زیادہ ہوتی ہے پریشانی

ارریہ( رقیہ آفرین )  قلب شہر میں واقع 32 سالہ قدیم بازار (وِکاس مارکیٹ) یوں تو دکانوں کی رونق سے کافی خوبصورت ہے۔ لیکن ضلع پارشد کی اس دو منزلہ عِمارت والی مارکیٹ جس میں قریب دس درجن دُکانیں ہیں۔اوران دکانوں سے ضلع پارشد کو ایک ماہ میں ایک لاکھ سے بھی زائد روپے کی آمدنی ہوتی ہے, مگر یہاں بیت الخلاء تو دور ایک پیشاب خانہ بھی نہیں ہے ,جس کے باعث  دکاندار سمیت گراہکوں کو کافی دُشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ القا الیکٹرونکس کے مالک ایوب اس مارکیٹ میں بیت الخلاء  کا نظم نہیں ہو نے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شروعاتی دور میں ایک بیتُ الخلاء بنایا گیا تھا۔ جو کچھ سالوں میں ہی بند ہوگیا۔ ضرورت پڑنے پر  دکان اسٹاف کے بھروسے چھوڑ کر جانا پڑتا ہے۔ لیکن دِقّت اس وقت زیادہ ہوتی ہے جب کمپنی کے  بڑے نُمائندے آتے ہیں۔ وہیں نوشاد احمد۔ جیسوال جھا۔ انتخاب عالم۔ بیتُ الخلاء کی کمی کو ایک بہت ہی بڑی کمی بتاتے ہوئے کہاکہ یہاں بیتُ الخلاء نہیں ہونے سے دکانداروں کے علاوہ عورت گراہکوں کو بہت ہی زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔ پوچھنے پر کہ آیا اسکی شکایت دکانداروں نے ضلع پارشد سے کبھی کی ہیں۔ تو دکانداروں نے بتایا کہ کئی دفعہ شکایت کرچکے ہیں لیکن فائدہ ندارد یہاں یہ بتاتے چلیں کے  بیت الخلاء کا نظم ضلع کے بلاک مراکز جہاں ایک دن میں سیکڑوں لوگوں کی آمدورفت ہوتی ہے وہاں پر بھی نہیں ہے, غور طلب ہیکہ حکومت جہاں ایک طرف سوچھ بھارت مہم چلا رہے ہی, اور اس کیلئے کروڑوں روپے خرچ کرنے کا  دعویٰ بھی  کررہی ہے لیکن بلاک مراکز وشہروں میں بیت الخلاء کا نظم نہیں ہو نے سے حکومت کے دعوے کھوکھلے ثابت ہو رہے ہیں

مزید پڑھیں

Urdutimes@123

ہندوستان اردو ٹائمز پر آپ سب کا خیر مقدم کرتے ہیں

متعلقہ خبریں

جواب دیجئے

Close